پروین شاکر

ماہِ تمام ۔ کلیات پروین شاکر pdf

مر بھی جاؤں تو کہاں لوگ بھلا ہی دیں گے لفظ میرے، مرے ہونے کی گواہی دیں گے جب بھی ہم اردو ادب کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہیں تو ہمیں شعراء کے سا...

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا - پروین شاکر

وہ ہم نہیں جنہیں سہنا یہ جبر آ جاتا تری جدائی میں کس طرح صبر آ جاتا فصیلیں توڑ نہ دیتے جو اب کے اہلِ قفس تو اور طرح کا اعلانِ جبر ...

اس سے ملنا ہی نہیں دل میں تہیہ کر لیں۔ پروین شاکر

اُس سے ملنا ہی نہیں دل میں تہیہ کر لیں وہ خود آئے تو بہت سرد رویہ کر لیں ایک ہی بار یہ گھر راکھ ہو، جاں تو چھوٹے آگ کم ہے تو ہوا او...

پروین شاکر کی نظمیں | ماہِ تمام سے انتخاب

نشاطِ غم ۔ دسمبر کا کوئی یخ بستہ دن تھا میں یورپ کے نہایت دُور افتادہ علاقے کی کسی ویران طیراں گاہ میں بلکل اکیلی بینچ پر بیٹھی تھی ...

پروین شاکر کی غزلیں

چلی ہے تھام کے بادل کے ہاتھ کو خوشبو ہوا کے ساتھ سفر کا مقابلہ ٹھہرا ۔ خوشبو بتا رہی ہے کہ وہ راستے میں ہے موجِ ہوا کے ہاتھ میں اس ...

Load More
No results found